بحرِ طویل
This musalsal ghazal of eight verses is one of the most extraordinary compositional feats in the Urdu tradition. It is structured as a ghazal — yet defies the conventional brevity of that form by stretching each misra (line) to breathtaking lengths. The chosen meter, Fa'ilatun (فعلاتن) — short-short-long-long — repeats nearly a hundred times in each line, creating a rhythmic and mesmerising cascade that flows like an unstoppable river of words.
A note on classification: Behr (بحر) in Urdu prosody means "meter," so Behr-e-Taweel describes a metrical form — an extraordinarily extended meter applied within the ghazal structure — rather than a standalone genre. The traditional genres (asnaf) of Urdu poetry are ghazal, qasida, masnavi, nazm, and so on; Muztar's poem is a ghazal at its core, distinguished by a meter of unparalleled length and ambition.
Click a verse to expand.
پہلا مصرع▾
اسے کیوں ہم نے دیا دل، جو ہے بے مہری میں کامل، جسے عادت ہے جفا کی،
جسے چِڑھ مہر ووفا کی، جسے آتا نہیں آنا، غم وحسرت کا مٹانا، جو ستم میں ہے یگانہ،
جسے کہتا ہے زمانہ، بُت بے مہر ودغا باز، جفا پیشہ فسوں ساز، ستم خانہ براندازِ
غضب جس کا ہر اِک ناز، نظر فتنہ مژہ تیر، بلا زلف گرہ گیر، غم ورنج کا بانی، قلق ودرد
کا موجب، ستم وجور کا استاد، جفا کاری میں ماہر، جو ستم کیش وستم گر، جو ستم پیشہ ہے
دلبر، جسے آتی نہیں اُلفت، جو سمجھتا نہیں چاہت، جو تسلّی کو نہ سمجھے، جو تشفّی کو نہ
جانے، جو کرے قول نہ پورا، کرے ہر کام ادھورا، یہی دن رات تصوّر ہے کہ ناحق
اسے چاہا، جو نہ آئے نہ بلائے، نہ کبھی پاس بٹھائے، نہ رخ صاف دکھائے، نہ کوئی
بات سنائے، نہ لگی دل کی بجھائے، نہ کلی دل کی کھلائے، نہ غم ورنج گھٹائے، نہ رہ ورسم
بڑھائے، جو کہو کچھ تو خفا ہو، کہے شکوے کی ضرورت، جو یہی ہے تو نہ چاہو، جو نہ
چاہوگے تو کیا ہے، نہ نباہوگے تو کیا ہے، بہت اترائو نہ دل دے کے، یہ کس کام کا دل
ہے، غم واندوہ کا مارا، ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر، ابھی منہ
دیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں! ان کو ہوا کیا، کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
دوسرا مصرع▾
بس اسی دھیان میں ہم تھے کہ ہوئی پاؤں کی آہٹ، نظر اٹھی تو یہ دیکھا کہ چلا آتا ہے وہ زہرہ جبیں، ماہِ مبیں، طرفہ حسیں، پردہ نشیں، لُعبتِ چیں، دُررِ ثمیں، دل کا مکیں، دشمنِ دیں، ساتھ مگر کوئی نہیں، دھک سے ہوا دل کہ یہ اس وقت کہاں، اسے جو پوچھا کہ پتہ خیر تو ہے، کیوں ادھر آیا، تو جواب اس نے دیا ہنس کے، کہ یوں ہی، تجھے کیا کام کہ تو پوچھ رہا ہے، کوئی قاضی ہے کہ مفتی، تِرا کیا آتا ہے دینا، جو مجھے ٹوکے وہ تو کون، تِرا کیا ہے اجارہ، یہ کہا اور مرے پاس ہی یوں بیٹھ گیا داب کے زانوں، بس ادھر دیکھ ادھر دیکھ، مرے دل کو ٹٹولا، پہ وہاں دل کا پتہ کب تھا جو ملتا اسے، ناچار کہا کیوں جی! کوئی اور بھی دل ہے، ہمیں حاجت ہے جلانے کی، دکھانے کی، ستانے کی، کڑھانے کی، مٹانے کی، اگر دو تو بڑا کام کرو، سن کے یہ بات اس سے کہا میں نے کہ کچھ خیر تو ہے، ایک ہی دل تھا سو وہ تو لے ہی گیا، دو بھی کہیں ہوتے ہیں دنیا میں کسی کے جو تو لینے کو ہے آیا، تو وہ بولا جی جاؤ، ذرا تم جی میں تو شرماؤ، بھلا حکم اٹھایا کہ میری بات ہی کاٹی، کہیں دیتے ہیں جواب ایسا ٹکا سا، ارے توبہ ارے توبہ، چلو بیٹھے رہو، باتیں نہ بناؤ، تم اسی منہ سے یہ کہتے تھے، تمہیں ہم سے محبت ہے، ہٹو جاؤ محبت کا بھلا نام ڈبویا
تیسرا مصرع▾
کبھی ان کو جو سنایا غمِ دل، ہنس کے وہ بولے کہ بڑے جھوٹے ہو، توبہ، وہ سناتے ہو کہانی کہ یقیں جس پہ نہ آئے، وہ بیان کرتے ہو قصہ جو ذرا دل کو نہ بھائے، تم اسے چھوڑ دو، اچھی نہیں یہ بات کہ گڑ گڑ کے سناتے ہو افسانہ، ابھی دس اور سنیں اس کو، تو کیا جی میں کہیں، تم بڑے وہ ہو، خدا تم سے بچائے، چلو جاؤ ہمیں نیند آئی ہے ہم سوئیں گے، چولہے میں گئیں آپ کی باتیں، مری نیند اڑ گئی سن کر، مجھے آنے لگے چکر، مرا دل ہو گیا مضطر، نہیں سنتے کہ ہوا کیا، سب ہی سنتے ہیں کہانی، مگر ایسا بھی غضب کیا، کہ نہ سر ہے نہ کہیں پیر، وہی ہانک دی جو آ گئی جی میں، تمہیں لازم نہیں ایسا، ذرا دیکھو، اسی دنیا میں بہت لوگ حسینوں پہ فدا ہیں، انہیں کیا کہنا آتا ہے، وہ کیا کچھ نہیں کہتے ہیں، مگر یوں نہیں کہتے، کہ الل ٹپ جو ہوئی ضد تو ہوئی ضد، جو لگی ہٹ تو لگی ہٹ، جو بندھی دھن تو بندھی دھن، نہ غمِ دل شکنی ہے نہ سرِ کم سخنی ہے، جو ٹھنی ہے تو ٹھنی ہے، کہیں ان باتوں میں تم کھاؤگے دھوکا، کہیں تم کھاؤگے منہ کی، نہ ملے گا کوئی سمرا، تمہیں سب لوگ کہیں گے، یہ وہی ہے جسے ضبط کا یارا نہیں، خاموشی گوارا نہیں، جب ہوگی یہ تشہیر، تو ہو جاؤگے ہلکے، نہ کہے گا کوئی راز اپنا، کہ ایسا نہ ہو کہہ دو، جو بنی بات بھی بگڑے
چوتھا مصرع▾
جو سنا میں نے تو تلووں سے لگی سر پہ بجلی، پٹ سے کہا منہ پہ کہ جا رے بُتِ عیّار، جفا کار، ستم گار، دل آزار، تجھی کو ہے سزاوار، کہ سیدھی کو تو الٹی کہے الٹی کو تو سیدھی، کرے بے مہری کی بوچھار، غم ورنج کی بھرمار، تجھے پاسِ محبت، نہ محبت سے سروکار، نہ الفت سے علاقہ، نہ ہے الفت کا خریدار، نہ چاہت سے تعلق، نہ تو چاہت تجھے درکار، فقط اپنی ہی صورت پہ ہے وہ ناز کہ رکھتا ہی نہیں پاؤں زمیں پر، تِری نظروں میں چمن دشت ہے گل خار، پر اچھی نہیں یہ بات، سنا تو نے یہ ہوگا، کہ عزازیل کو اللہ نے سجدے کے نہ کرنے پہ کیا مریدِ لعنت، وہ ملک ہو کے ہوا مفت میں شیطاں، تو تِری اے بُتِ کافر، نہیں کچھ خاک بھی ہستی، یہ جوانی کے جو اترائے لیے پھرتی ہے تجھ کو یہ چلی جائے گی دو دن میں، یوں جیسے کہ دمِ صبح کا جھونکا، تجھے اس وقت کروں گا میں سلام اے بُتِ کافر، کہ کہاں ہے وہ تغافل، وہ تجاہل، وہ تبختر، وہ تکبر، وہ تبسم، وہ شرارت، وہ حرارت، وہ غضب ناز، وہ شوخی، وہ ستمِ عشوہ، وہ تیزی، وہ بلا قہر ادائیں، وہ تری زہر جفائیں، وہ قیامت کی نگاہیں، وہ تیرا روپ وہ رنگت، وہ تِرا حسن وہ چھل بل، جو گئے یہ تو دوبارہ، نہیں تو پائے گا ہرگز، رہے گو لاکھ تو سو جان سے جویا
پانچواں مصرع▾
یہ تماشہ ہے کہ الٹی ہوئی مجھ سے انہیں الفت، مجھے نفرت انہیں رغبت، مجھے کلفت انہیں حسرت، مجھے حیرت، کہ ہنسی آتی ہے مجھ کو انہیں رونا، وہ مرے عشق میں روتے ہیں، میں ہنستا ہوں، وہ کرتے ہیں شکایت، مجھے ہوتا ہے تقدر، وہ وفاؤں کے ہیں طالب، مجھے منظور جفائیں، وہ محبت کے طلب گار، میں اس رسم سے بیزار، انہیں چاہ کا ارمان، مجھے ظلم کی خواہش کہ مجھے جیسے ستایا ہے یوں ہی ان کو ستاؤں، مجھے جس طرح جلایا ہے یوں ہی ان کو جلاؤں، مجھے جس طرح رلایا ہے یوں ہی ان کو رلاؤں، مجھے جس طرح کڑھایا ہے یوں ہی ان کو کڑھاؤں، جو وہ ہوں مہر کے طالب، تو کروں جور وجفا میں، جو وفا چاہیں کہ برتوں، تو کروں ان سے دغا میں، وہ خوشی چاہیں تو غم دوں، جو بچن چاہیں تو دم دوں، جو کروں وعدہِ فردا، تو مہینوں نہ خبر لوں، جو کروں آج کا اقرار، تو برسوں میں ہو پورا، سو وہ پورا بھی ہو کیسے کہ ملوں مل کے ستاؤں، قلق ورنج بڑھاؤں، جو کہیں کچھ تو کہوں رہنے دو، فرصت نہیں سننے کی، سنوں بھی تو بس اس کان سے اس کان اڑا دوں، وہ کہیں بہرِ خدا رحم کرو، مجھ سے مصیبت نہیں اٹھتی، یہ نیا رنگِ زمانہ ہے کہ میں تم پہ فدا ہوں، کرو تم یاد وہ گھڑیاں کہ مری چاہ میں تم رہتے تھے گریاں، یہ ستم کیا ہے کہ معشوق سے رہتے ہو کشیدہ وکبیدہ
چھٹا مصرع▾
نہیں شک اس میں ذرا بھی، یہ مثل سچ ہے کہ آتا ہے کیا اپنے ہی آگے، انہیں دیکھو کہ ستاتے تھے، جلاتے تھے، رُلاتے تھے مرے دل کو، دکھاتے تھے کڑھاتے تھے مہینوں صفتِ شمع گھُلاتے تھے، جفاؤں کو بڑھاتے تھے، محبت کو گھٹاتے تھے، ستم مجھ پہ وہ ڈھاتے تھے، کبھی منہ کو چھپاتے تھے، کبھی آنکھ چراتے تھے، نہ آتے تھے نہ جاتے تھے، فقط دور سے باتیں ہی بناتے تھے، نیا روز وہ طوفان اٹھاتے تھے، مرے دل پہ بڑا رُعب بٹھاتے تھے، اب ایسے ہیں، کہ میں ان کو ستاتا ہوں، جلاتا ہوں رُلاتا ہوں، بہت دل کو دکھاتا ہوں کڑھاتا ہوں، مہینوں صفتِ شمع گھُلاتا ہوں، جفاؤں کو بڑھاتا ہوں، محبت کو گھٹاتا ہوں، ستم ان پہ یہ ڈھاتا ہوں، نہ آتا ہوں نہ جاتا ہوں، فقط دور سے باتیں ہی بناتا ہوں، کبھی منہ کو چھپاتا ہوں، کبھی آنکھ چراتا ہوں، نیا روز میں طوفان اٹھاتا ہوں، میں اس دل پہ بہت رُعب بٹھاتا ہوں، جو وہ حال دکھاتے ہیں، تو لاکھوں ہی سناتا ہوں، وفاؤں پہ نظر ہے، نہ محبت کی خبر ہے، جو ادھر حال تھا پہلے، وہی اب حال ادھر ہے، جو یہ بدلا ہوا عالم ہے تو اس کا یہ اثر ہے، وہی اب سینہ سِپر ہے، جو بنا پھرتا تھا قاتل، جو جفاؤں میں تھا کامل، جو کیا کرتا تھا غمزے، یہ عجب رنگِ محبت ہے کہ جو رنج سے روتا تھا، وہ ہنستا ہے، جو ہنستا تھا وہ رویا
ساتواں مصرع▾
پئے گلگشتِ گلستاں کو گئی ان کی سواری، جو چلی بادِ بہاری، تو کھلی پھولوں کی کیاری، کہیں کلیاں ہوئی ظاہر، کہیں غنچے ہوئے پیدا، کہیں بیلا، کہیں لالہ، کہیں سوسن کہیں شبو، کہیں جوہی کہیں گیندا، کہیں چمپا، کہیں نسرین کہیں نرگس ہوئی شاخوں پہ نمودار، وہ شاخیں جو برنگِ سرِ تسلیم جھکیں، تاکہ قدم لیں، گلِ نو رستہِ خوبی کہ جسے تو کہے، شایاں ہے کہ جب تک ہے وہ خورشیدِ نظر، رشکِ قمر، غیرتِ گلہائے چمن، سیم بدن، ماہ جبیں، غنچہ دہن، دیکھے اگر اس کی پھبن، گل ہو وہیں شمع، لگے جس کی نظر سامریِ فن، جس کی مژہ تیر فگن، ہے یہ اسی کے لیے سامان مہیّا، ہے اسی کے لیے اسباب فراہم، کہیں سبزے کا بچھا فرش کہ سوئے وہ گلِ تر، کہیں میووں کے لگے ڈھیر کہ کھائے وہ ستم بر، کہیں پانی سے بھرے حوض کہ پی لے وہ ستم گر، کہیں پٹری کی تمنا کہ قدم اس کے میں چوموں، کہیں مہندی کی یہ خواہش کہ مجھے پیس ہی ڈالے، کہیں میووں کی یہ حسرت کہ ہمیں توڑ کے پھینکے، کہیں شاخوں کا یہ منشا کہ یہیں سائے میں بیٹھے، کہیں پانی کا یہ مطلب کہ یہاں آ کے نہائے، کہیں پھولوں کا یہ ارمان کہ ہم سایہ فگن ہوں، کہیں قمری کو تجسس کہ رٹے جاتی ہے کو کو، کہیں بلبل متلاشی کہ کدھر ہے بُتِ گل رو بُتِ گل رو
آٹھواں مصرع▾
جو گیا عالمِ وحشت میں یہ دیکھا کہ بڑی دھوم مچی ہے، بڑا ہنگامہ برپا ہے، مجھے معلوم ہوا، جذبہِ الفت کی بدولت کہ وہ آئیں گے، مجھے جن سے تعلق ہے مجھے جن سے محبت ہے، لگاوٹ ہے، اسی وجہ سے میں بیٹھ گیا تاکہ میں دیکھوں، بُتِ طناز کا آنا کہ بس اتنے میں نمودار ہوا وہ گلِ رعنا، جسے خسرو نے کہا، "تازہ جواں، مُوے میاں، پستہ دہاں، آفتِ جاں، جانِ جہاں، روزِ رخے، زلفِ شبے، دُر دہنے، لعل لبے، یوسفے چہ در ذقنے، سینہ انارے، گلِ بے زحمتِ خارے، ملِ بے رنجِ خمارے، بسخن جملہ مسیحے، بزباں جملہ فصیحے، بنظر جملہ فنے، آہوئے ضیغم فگنے، زلفِ دُتا راہ زنے، عشوہ کنے، غمزہ زنے، چرخ ندیدہ بہ بصر در دو جہاں، ہمچو بشر، گیسوئے مشکیں اگر دست رسانند بکمر، ورنہ دریں راہگزر، کس نرسانند نظر ہم، نہ خزاں دیدہ بہارش، نہ چوں بیضہ نہ انارش" مرے نزدیک جو ایسا ہو، اسے کیا لکھوں مضطر، کہ وہ کیسا ہے، بصد ناز اتر کے لگی بلبل یہ سنانے، کہ کیا دن یہ خدا نے، جو لگے باغ تم آنے، گلِ گلشن کو ہنسانے، مرے سننے کو ترانے، مرے نزدیک نہیں اس میں ذرا شک کہ پڑی جان چمن میں، یہ چمن جسم ہے، اس جسم کی تم ہی مری جان جان ہو گویا